حضرت امام علی نقی علیہ السلام کی ولادت با سعادت 5 رجب

حضرت امام علی نقی علیہ السلام ہمارے دسویں امام ہیں5 رجب المرجب کے دن ان کی ولادت ہوئی۔

حضرت امام علی نقی علیہ السلام

حضرت امام علی نقی علیہ السلام کی ولادت با سعادت 5 رجب
حضرت امام علی نقی علیہ السلام کی ولادت با سعادت 5 رجب

تاریخ ولادت

محمد بن طلحہ اپنی کتاب کشف الغمہ میں تحریر کرتے ہیں: اپ علیہ السلام کی ولادت ماہ رجب214 ہجری میں ہوئی، اپ کی والدہ ام ولد تھی جن کا نام سمانہ مغربیہ تھا۔ کچھ لوگ اس کے علاوہ دوسرا بتاتے ہیں۔

اپ علیہ السلام کا اسم گرامی علی ہے۔ اپ علیہ السلام کے القاب ناصح، متوکل، مفتاح، نقی، مرتضی ہیں۔ مگر ان میں سب سے زیادہ مشہور متوکل ہے ،مگر اس لقب کو اپ علیہ السلام چھپاتے اور اپنے اصحاب سے فرماتے کہ اس لقب سے یاد نہ کیا کریں ،کیونکہ یہی خلیفہ وقت کا بھی لقب ہے۔

اپ علیہ السلام کی وفات25 جماد الاخر254 ہجری کو معتز کے دور خلافت میں ہوئی اس طرح اپ علیہ السلام نے 40 سال کی عمر پائی۔ اپنے والد کے ساتھ اپ علیہ السلام نے چھ سال پانچ ماہ گزارے اور والد کی وفات کے بعد 33 سال کچھ مہینے۔ اس لحاظ سے اپ نے 40 سال عمر پائی اپ علیہ السلام کی قبر مبارک سرمن رائے میں ہے۔(کشف الغمہ جلد 3 232)

ابن عیاش کا بیان ہے کہ سیدنا ابو الحسن علی بن محمد علیہ السلام کی وفات3 رجب254 ہجری میں ہوئی اس وقت اپ علیہ السلام کی عمر 41 سال تھی۔(مصباح کفعمی)

حضرت امام علی نقی علیہ السلام کی ولادت با سعادت 5 رجب
حضرت امام علی نقی علیہ السلام

ایک معجزہ

ابو الحاشم جعفری سے روایت ہے کہ میں ایک مرتبہ حضرت ابو الحسن امام علی نقی علیہ السلام کی خدمت میں پہنچا تو اپ علیہ السلام نے مجھ سے ہندی میں گفتگو فرمائی مگر میں اپ علیہ السلام کی گفتگو نہ سمجھ سکا اپ علیہ السلام کے سامنے کچھ کنکریاں پڑی ہوئی تھیں اپ علیہ السلام نے ان میں سے ایک گھڑی اٹھائی منہ میں ڈالی اور میری طرف پھینک کر فرمایا

اے ابو الہاشم! اس کو سوچو

میں نے اٹھ کر منہ میں رکھ لیا، کچھ دیر اس کو چوستا رہا ،اس کے بعد جب میں اپ علیہ السلام کے پاس سے اٹھا تو میں 73 زبانوں میں گفتگو کر سکتا تھا۔(مختار الخرائج والجرائح 237)

اپ کی سخاوت

ایک مرتبہ ابو عمرو بن عثمان بن سعید و احمد بن اصحاب اشعری اور علی بن جعفر حمدادی حضرت امام ابو الحسن علی نقی علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے۔

احمد بن اصحاب نے عرض کیا کہ میں مقروض ہو گیا ہوں۔

اپ علیہ السلام نے اپنے وکیل ابو عمرو بن عثمان سے فرمایا: 30 ہزار درہم ان کو دے دو۔ 30 ہزار درہم علی بن جعفر کو دے دو اور 30 ہزار درہم تم خود لے لو۔

واقعا اس قسم کی سخاوت کرتے ہوئے اس زمانے میں کسی کو نہیں دیکھا گیا۔(مناقب جلد4 407)

Leave a comment