حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کی ولادت با سعادت 1 رجب

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام پانچویں امام ہیں یکم رجب المرجب میں ان کی ولادت ہوئی اج ہم یہاں ان کی زندگی کے کچھ موضوع یہاں بیان کریں گے۔

حضرت امام محمد باقر

مقام و تاریخ ولادت و شہادت

تاریخ ولادت

کتاب العالم الواری میں بیان کیا گیا ہے کہ حضرت امام محمد باقر علیہ السلام یکم ماہ رجب 57 ہجری بروز جمعہ مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے اور بعض روایات سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ حضرت امام کی تاریخ ہے ولادت ماہ صفر 57 ہجری کی تیسری تاریخ ہے۔ مصباحین میں جناب جابر جعفی سے مروی ہے کہ اپ کی ولادت یکم ماہ رجب ستونجا ہجری بروز جمعہ ہوئی۔ (صباح المتھجد 557)

تاریخ وفات و مدت عمر

بیان کیا گیا ہے کہ ذی الحجۃ 14 ہجری میں اپ کی وفات ہوئی اور عمر 57 سال۔ اپنے جد بزرگوار حضرت امام حسین علیہ السلام کی زندگی میں چار سال اور اپنے پدر بزرگوار حضرت امام علی بن ال الحسین زین العابدین علیہ السلام کی حیات میں 39 سال گزارے۔

والدہ ماجد

اپ کی والدہ ماجدہ ام عبداللہ دختر حضرت امام حسن علیہ السلام تھی۔

مدت امامت

اپ کا زمانہ امامت 18 سال رہا۔

سلاطین دور امامت

اپ کا دور امامت ولید بن عبدالملک، سلیمان بن عبدالملک، عمر بن عبدالعزیز، یزید بن عبدالملک اور ہشام بن عبدالملک کے زمانے حکومت میں گزارا اور اسی ہشام کے دورے حکومت میں اپ کی وفات ہوئی۔

اقوال دربارہ تاریخ ولادت وشہادت

بحوالہ روضتہ الواعضین حضرت امام کی ولادت منگل یا جمعہ کے دن 27 ماہ صفر 57 ہجری کو مدینہ میں ہوئی اور ماہ ذی الحجتہ یا ماہ ربیع الاول میں اپ کی شہادت واقع ہوئی اور ایک دوسرے قول کے مطابق ماہ ربثانی میں 114 ہجری یہ واقعہ ہوا اور اس وقت حضرت کی عمر 57 سال تھی۔

بحوالہ کافی حضرت امام کی ولادت 57 ہجری میں اور شہادت 114 ہجری میں مدینہ میں ہوئی وقت شہادت 57 سال کی عمر تھی۔ امام زین العابدین علیہ السلام کے بعد 19 سال دو ماہ عقیدہ حیات رہے۔(الکافی جلد1 466)

حضرت امام محمد باقر کے باقر لقب کی وجہ تسمیہ

عمر بن شمر سے منقول ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے جعفر جعفی سے پوچھا کہ امام محمد باقر علیہ السلام کو باقر کیوں کہا جاتا ہے تو انہوں نے جواب دیا اس لیے کہ انہوں نے علم کو پھیلا یا اور اس کی نشر و اشاعت کی اور اپ کی ذات سے علم کی روشنی ہر طرف پھیل گئی۔(علل الشرائع جلد 1 233)

معافی اللہ اخبار میں بھی یہ روایت اسی طرح بیان کی گئی ہے۔(معافی الاخبار 65)

مولف رحمت اللہ فرماتے ہیں کہ ہم اس خبر کو اگے پیش کریں گے جس میں جناب جابر رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت امام سے اس طرح خطاب کیا کہ اپ درحقیقت باقی ہیں اور اپ ہی علوم کو اس طرح نشر فرمائیں گے جیسا کہ ان کے پھیلانے کا حق ہے۔

الارشاد میں جناب جابر بن عبداللہ سے منقول ہے کہ سرور کائنات صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ تم زندہ رہو گے یہاں تک کہ تم میرے ایک فرزند سے ملو گے جو حسین علیہ السلام کی اولاد میں سے ہوگا اور جس کا نام محمد ہوگا وہ علم دین کو وسعت دے گا جب تم اس سے ملو تو اسے میرا سلام کہنا۔(الارشاد 280)

کشف الغمہ مذکور ہے کہ حضرت امام کا اسم مبارک محمد اور کنیت ابو جعفر تھی اور اپ کے تین القاب تھے باقر العلوم ، شاکر اور ہادی جن میں باقر بہت زیادہ مشہور ہے جس کی یہ وجہ ہے کہ اپ نے علم کو شگافتہ کیا اور اسے وسعت دی۔(کشف الغمہ جلد 6 318)

فیروز ابادی نے القاموس میں لکھا ہے کہ بقر کے معنی شگافتہ کرنے اور وسعت دینے کے ہیں اور امام محمد باقر علیہ السلام کا باقر لقب اسی لیے ہوا کے علم میں کمال کی حد پر پہنچے ہوئے تھے۔

حوالہ

یہ سب کچھ بہارالانوار جلد 4 سے لیا گیا ہے جو کہ حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کے درحالات پر ہے جس کے مولف علامہ باقر مجلسی رحمۃ اللہ ہیں۔

I'm Moqdesis, an accomplished author and dedicated Islamic content writer. With a passion for words and a heart attuned to the wisdom of Islamic teachings, I embark on a literary journey to share stories that inspire, enlighten, and resonate with the soul.

Sharing Is Caring:

Leave a comment